Latest News

مشکلات سے دوچار پبلک لائبریری قلات کاحال

تحریر: جہانزیب مینگل

علم کی حصول کے لے جدید دور میں لائبریروں کی اہميت سے انکار ممکن نہیں ہے- سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں لائبریریوں کے ساتھ ساتھ جدید ڈیجیٹل لائبریروں کا قیام نا گزیر ہوچکاہےجہاں طلباء وطالبات ملکی و بین الاقوامی منظر نامے اور حالات حاضرہ سے بہ آسانی آگاہی حاصل کرسکیں- اسکے ساتھ طلباء کو قومی اور بین الاقوامی معیارات اور علم کے حصول کے حوالے سے جدید ذرائع تک دسترس بھی حاصل ہوسکتی ہے-

صوبہ بلوچستان جہاں بہت سے محرومیوں کا شکار ہے وہاں علم کے حصول میں طلبا کو لائبریریوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ طلباء بہ آسانی اپنے علاقوں میں ہی علم کی روشنی سے بہرآور ہوسکیں-ضرورت اس امر کی ہیکہ صوبے کے ہر ضلع میں پبلک لائبریریاں قائم کی جائیں اور جن اضلاع میں پہلے سے پبلک لائبریریاں موجودہ ہیں ان پر خصوصی توجہ دیا جائے۔

یوں تو بلوچستان میں پبلک لائبریریاں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔اگر کسی ضلع میں کوئی لائبریری موجود ہے تو وہ بھی خستہ حالی کا شکار ہے ۔قلات ان اضلاع میں ایک ہے جسکی پبلک لائبریری حکام کی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے-

قلات میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ PPL کی جانب سے 2012میں پبلک لائبریری کا قیام عمل میں لایاگیا ۔جو قلات کے غریب عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ۔لیکن انتظامیہ کی بے توجہی کی وجہ سے یہ نعمت غریب عوام کو راس نہ آہی اور 2013 کو یہ پبلک لائبریری بند ہوگئی-

10ستمبر 2015 کو ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر طفيل احمد بلوچ کی کاوشوں سے لائبریری نہ صرف کو دوبارہ عوام کیلیے کھول دیا گیابلکہ کسی حد تک فعال بھی کیاگیا۔اسکے بعد 7مارچ 2016 کو ڈپٹی کمشنر نے لائبریری کا چارج محکمہ تعلیم کے حوالے کردیا ۔محکمے نے لائبریری کا چارج تو لے لیا لیکن لائبریری کے لیے کوئی بجٹ کا انتظام نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے یہ لائبریری اخبار مالکان سمیت مختلف اداروں کا مقروض ہے- لائبریری کیلیے نہ تو کوئی ڈی ڈی او اتھارٹی بنائی گئی اور نہ ہی اسکے اخراجات پورے کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ ڈھونڈا گیا-

جسکی وجہ سے لائبریری میں بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ نئے مسائل نے جنم لیا- ان میں

سب سے بڑا مسئلہ کتابوں کی کمی کا ہے یہاں نئے کتابوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ طلباء عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق مطالعہ کرسکیں- علاوہ ازیں ادارہ شدید مالی بحران کا شکار ہے- لائبریری میں نہ تو چوکیدار کے لیے کوئی کمرہ ہے اور نہ ہی الگ واش روم, اسکےعلاوہ لائبریری کا مین گیٹ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور طویل عرصے سے مرمت کا منتظر ہے-لائبریری میں گیس کی کنکشن نہ ہونے کی وجہ سے سردیوں میں طلباءکوشدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے-حکام کو بار بار مطلع کرنے کے باوجود بھی لائبریری کے مسائل حل نہیں ہوسکے- اسکے علاوہ پانی کے اسٹوریج کیلیے واٹر ٹینک, سائیکل اسٹینڈ, واٹر کولر, سولر سسٹم اور بیٹریوں کی اشد ضرورت ہے- ان سب کے علاوہ ادارے کو کمپیوٹر اور آئی ٹی سیکشن کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل لیب کی اشد ضرورت ہے-

ضرورت اس امر کی ہیکہ قلات کے اس واحد قومی ادارے کو تباہی سے بچایا جائے اور اسکے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں تاکہ طلباء میں ذوق مطالعہ پروان چڑھ سکے اور وہ جدید علوم سے روشناس ہوسکیں-

Comments
Print Friendly, PDF & Email